در این میان خیبر مرکز آشوبهای نظامی و تحریکات و جنگافروزیها علیه مسلمانان بود پس از وی تمام ماه «ذی الحجة»، و مقداری از «محرّم» سال هفتم هجری را در «مدینه» توقف کرد، سپس با حدود یک هزار و. یہ لوگ خیبر پہنچے تو رسول اللہ خیبر فتح کرچکے تھے۔ رسول اللہ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجاہدینِ اسلام سے بات کی اور اُنہیں بھی خیبر کے مال ِ غنیمت میں شریک کر لیا۔ غزوہ خیبر رسول خداؐ کے غزوات میں سے ایک ہے جو سنہ 7 ہجری میں خیبر کے علاقہ میں پیش آیا۔
خیبر کے علاقے کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر، یہ ایک بہترین دفاعی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد نہ صرف خیبر کو فتح کرنا بلکہ مسلمانوں کے خلاف موجود خطرات کو ختم کرنا بھی تھا۔ یہ مدینہ منورہ سے آٹھ برید کے فاصلہ پر شام کی جانب ہے ۔ قاموس میں ہے کہ خیبر مشہور قلعہ کا نام ہے ۔ اس غزوہ کا وقوع ہجرت کے ساتویں سال میں ہوا ہے۔ غزوہ خندق میں بھی یہ مسلمانوں کے خلاف رہے تھے ۔جب بنو غطفان کو اطلاع ملی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خیبر پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوگئے ہیں تو انہوں نے اپنے جنگجو جوانوں کو جمع کیا تاکہ اہل.
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا رخ کیا، تو ہم نے اس کے قریب صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور. خیبر“ ایک بڑے شہر کا نام ہے جو مدینۂ منوّرہ سے (شمال مغرب میں) تقریباً169کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ مدینہ طیبہ کے باقی صاحب ثروت یہودی جوغزوہ بنی قریظہ کے معاہدہ شکنوں میں شامل نہ تھے مسلمانوں کے تحفظ میں کامل آزادانہ طورپرزندگی بسر کر رہے تھے،مگرجب انہیں علم ہوا کہ مسلمان خیبرسے جنگ کرنے.